ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / میسوربنگلور۔چنئی کے درمیان چل سکتی ہے ہائی سپیڈ ریل 

میسوربنگلور۔چنئی کے درمیان چل سکتی ہے ہائی سپیڈ ریل 

Sat, 24 Nov 2018 03:12:41    S.O. News Service

نئی دہلی:23/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) میسور۔بنگلور۔چنئی ہائی سپیڈ ریل کوریڈور کے لئے جرمنی نے فائنل رپورٹ بھارتی ریلوے کو سونپ دی ہے۔ بھارت میں جرمنی کے سفیر مارٹن نے ریلوے بورڈ چیئرمین کو دارالحکومت دہلی میں فائنل رپورٹ سونپی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میسور۔بنگلور۔چنئی کے لئے ہائی سپیڈ ٹرین چلانا نہ صرف فیزی بلٹی ہے؛ بلکہ اقتصادی طور پر بھی فائدہ مند بھی ہے۔ اس ہائی سپیڈ کوریڈور میں تروپتی کو بھی شامل کئے جانے کی وکالت رپورٹ میں کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کس ہائی سپیڈ کوریڈور کی سٹڈی کے لئے جرمنی کی حکومت نے فنڈنگ کی اور اس رپورٹ کو 18 ماہ کے وقت میں مکمل کر لیا گیا۔ بھارتی ریلوے کے حکام کے مطابق چنئی بنگلور میسور ہائی سپیڈ کوریڈور بنانے میں تقریبا 16 بلین ڈالر کے قریب کی لاگت آئے گی۔ 435 کلومیٹر طویل اس کوریڈور میں 84 فیصد حصہ ایلویٹیڈ رہے گا، وہیں 11 فیصد حصہ سرنگوں کے اندر سے ہوکر جائے گا۔ اس ہائی سپیڈ کوریڈور میں 435 کلومیٹر کے فاصلے چنئی اور میسور کے درمیان میں زیادہ سے زیادہ 320 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر 100 منٹ کے قریب مکمل کی جائے گی۔ا س موقع پر ریلوے بورڈ کے چیئرمین اشونی لوہانی نے کہا جرمنی نے فیزی بلٹی رپورٹ سونپ دی ہے۔ اب اس کا مطالعہ بھارتی ریلوے کے افسر کریں گے اور اس کی بنیاد پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ چنئی۔بنگلور۔میسور ہائی سپیڈ کوریڈور کو اقتصادی طور پر منافع کا سودا بنانے کے لئے جرمنی نے تجویز دی ہے کہ موجودہ ٹریک پر ہی ہائی سپیڈ کوریڈور کا زیادہ تر حصہ بنایا جائے۔ اس سے جہاں ایک طرف زمین تحویل کم سے کم کرنا پڑے گی، وہیں موجودہ وسائل کا مناسب استعمال ہو پائے گا۔


Share: